ابنا: ایڈورڈ اسنوڈن نے کہا کہ ایسے تمام دستاویزات جو ان کے پاس موجود تھے وہ انھوں نے ہانگ کانگ میں اپنے صحافی ساتھیوں کے حوالے کر دیے تھے، اور ان تک چین یا روس کی رسائی کا امکان صفر ہے۔اسنوڈن کا کہنا تھا کہ ماسکو میں پناہ لینے سے قبل انہوں نے یہ دستاویزات صحافیوں کو دے دیے تھے۔یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے اسنوڈن کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے اور متعدد ممالک کو انہیں پناہ دینے کے تئیں خبردار کرنے کے بعد سے سابق امریکی جاسوس ماسکو میں رہائش پذیر ہیں۔اسنوڈن نے رواں سال میں یہ معلومات افشاں کی تھیں کہ این ایس اے سمیت امریکی خفیہ ادارے امریکی شہریوں اور دیگر ممالک کے حکام کی بڑے پیمانے پر جاسوسی میں مصروف ہیں۔اسنوڈن کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ جانب سے عدالتی احکامات کی عدم موجودگی کے باوجود بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں اور ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کا خفیہ طور پر ریکارڈ جمع کرنے سے لوگوں کی آزادی پر کاری ضرب لگ رہی تھی اسی لیے میں نے امریکی جاسوسی پروگرام پرزم کے افشاں کرنے کا فیصلہ کیا۔......./169
18 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 473642
امریکہ کے بدنام زمانہ جاسوسی پروگرام کا انکشاف کرنے والے سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن نے کہا ہے کہ کہ واشنگٹن کے جاسوسی پروگرام سے متعلق خفیہ دستاویزات روس یا چین کے ہاتھ نہیں لگے ہیں۔